Showing posts with label Computer Tips. Show all posts
Showing posts with label Computer Tips. Show all posts

Friday, October 14, 2016

آرپار دکھائی دکھنے والا شفاف اسکرین ٹی وی تیار


آرپار دکھائی دکھنے والا شفاف اسکرین ٹی وی تیار

پیناسونک نے جاپان میں جاری ’’سی ٹیک‘‘ نمائش میں دنیا کا پہلا شفاف ٹیلی ویژن پیش کردیا جس کے آر پار دکھائی دیتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ اسکرین ٹیلی ویژن کی تیاری میں ’’آرگینک ایل ای ڈی‘‘ (OLED) کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس کی بدولت اسکرین کی ہر پکسل بذاتِ خود روشن ہوتی ہے۔ اس کے برعکس عام فلیٹ اسکرین ٹی وی میں ہر پکسل کے پیچھے ایک ننھی سی ایل ای ڈی موجود ہوتی ہے جو اسے روشن کرتی ہے۔

سوئچ آف ہونے پر یہ ٹیلی ویژن کسی شیشے کی طرح شفاف ہوتا ہے جس کے آر پار دکھائی دیتا ہے جب کہ آن کرنے پر یہ غیر شفاف ہوجاتا ہے جس پر مختلف مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ شفاف ہونے کے علاوہ یہ لچکدار بھی ہے یعنی اسے کسی الماری میں کثیر المقاصد شیشے کے طور پر لگایا بھی جاسکتا ہے جس سے جگہ کی بھی بچت ہوگی۔ پیناسونک کا کہنا ہے کہ فی الحال اس شفاف ٹیلی ویژن کا آزمائشی نمونہ ہی تیار ہے جسے مزید بہتر بنانے کے بعد 2018 تک فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

Monday, October 3, 2016

تھری ڈی پرنٹر سے مصنوعی ہڈیاں بھی تیار


تھری ڈی پرنٹر سے مصنوعی ہڈیاں بھی تیار

ہالینڈ کے ماہرین نے تھری ڈی پرنٹر استعمال کرتے ہوئے ایسی مصنوعی ہڈیاں تیار کرلی ہیں جو بالکل اصلی یعنی قدرتی ہڈیوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ ’’سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن‘‘ نامی تحقیقی جریدے کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اترخت یونیورسٹی، ہالینڈ کے سائنسدانوں نے تھری ڈی پرنٹر میں خاص طرح کی روشنائی استعمال کرتے ہوئے یہ مصنوعی ہڈیاں تیار کی ہیں جنہیں ’’ہائپر الاسٹک بونز‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ ابھی انہیں انسانوں پر نہیں آزمایا گیا ہے لیکن بندروں اور چوہوں میں پیوند کی گئی ان  مصنوعی ہڈیوں نے بالکل اصلی ہڈیوں جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

ویسے تو تھری ڈی پرنٹروں کی بدولت اب کسی بھی شکل کی چیز تیار کرنا کوئی مسئلہ نہیں رہا لیکن ہڈیوں کو جسم میں پیوند ہونے کے قابل بنانا آج بھی بہت مشکل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تھری ڈی پرنٹروں میں روشنائی (انک) کے طور پر استعمال ہونے والے بیشتر مادّے کسی جانور کا جسمانی حصہ بننے کے قابل نہیں ہوتے۔ ماہرین بائیو انجینئرنگ سے استفادہ کرتے ہوئے ایسا مادہ تیار کرلیا جو لچک دار ہونے کے علاوہ اس قابل بھی ہے کہ کسی جانور کے جسم کا حصہ بنایا جاسکے۔ تجربات کے دوران جب تھری ڈی پرنٹر سے بنائی گئی ان لچک دار ہڈیوں (ہائپر الاسٹک بونز) کو بندروں اور چوہوں میں پیوند کیا گیا تو پٹھوں اور رگوں نے رفتہ رفتہ انہیں اسی طرح اپنے حصار میں لے لیا جیسے اصلی ہڈیوں کو گھیرے ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر ان مصنوعی ہڈیوں نے قدرتی ہڈیوں جیسی کارکرگی کا مظاہرہ کیا اور جانوروں کو تقریباً مکمل طور پر صحتیاب کردیا۔

Wednesday, September 21, 2016

انسان کی سوچ سے بھی زیادہ تیز وائی فائی


انسان کی سوچ سے بھی زیادہ تیز وائی فائی

سائنس دان ایک نئے وائی فائی سسٹم پر کام کر رہے ہیں جو ڈیٹا ترسیل کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ کرتا ہے ۔ میگا میمو 2.0 کہلانے والا یہ نیا سسٹم موجودہ وائی فائی سے تین گنا زیادہ رفتار سے وائرلیس ڈیٹا ٹرانسفر کر سکتا ہے اور اس کی رینج بھی دوگنی ہے۔ امریکا کے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی کمپیوٹر سائنس اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جینس لیب (CSAIL) کی ٹیم کا تیار کردہ میگامیمو کسی روز ان وائی فائی راؤٹرز میں بھی آ جائے گا جنہیں آج ہم اپنے گھروں پر استعمال کرتے ہیں ۔ بلکہ اگر سسکو اور نیٹ گیئر جیسے بڑے ادارے اس سسٹم کو اپنی مصنوعات میں شامل کرنے پر رضامند ہوگئے تو بہت جلد ایسا ہوگا ۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ ان مقامات پر ہوگا جہاں بہت زیادہ رش ہو جیسا کہ کھیلوں کے ایونٹس ، اجتماعی مراکز یا ایئرپورٹس پر کہ جہاں سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد اسی انٹرنیٹ سگنل سے منسلک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان عوامی مقامات پر آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ انٹرنیٹ کی رفتار خاصی کم ہوجاتی ہے اور کبھی کبھار تو وہ کام ہی نہیں کرتا ۔ اس کا واحد حل یہی نظر آتا ہے کہ زیادہ وائرلیس راؤٹرز لگائے جائیں جس سے انٹرنیٹ کی فراہمی پر آنے والی لاگت کہیں بڑھ جاتی ہے ۔ میگامیمو اسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اس نئے سسٹم کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ میگامیمو 2.0 عام وائی فائی کے مقابلے میں 330 فیصد زیادہ رفتار کے ساتھ ڈیٹا کی ترسیل کر رہا تھا ۔ اب سائنس دان اس ٹیکنالوجی کو کمرشلائز کرنے پر کام کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ صنعت کے چند بڑے ناموں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں ۔ 

Thursday, September 1, 2016

خم دار سکرین والا لیپ ٹاپ متعارف


خم دار سکرین والا لیپ ٹاپ متعارف

فلیٹ سکرین والے لیپ ٹاپ تو عام دستیاب ہیں لیکن اب زمانہ آ گیا ہے خم دار سکرین والے لیپ ٹاپس کا- حال ہی میں تائیوان کی مشہور کمپنی "ایسر" نے خم دار سکرین والا لیپ ٹاپ متعارف کروا کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے- اس سے قبل بھی ٹی وی اور کمپیوٹر بنانے والی کومپنیاں خم دار سکرین پر ریسرچ کر رہی ہیں مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی اپنے نام کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکا- "ایسر" کا کہنا ہے کہ خم دار سکرین والے لیپ ٹاپ میں گیمز کھیلنا کافی لطف اندوز اور آسان ہو گا-یہ سکرین نارمل سائز سے بھی بڑی ہے - کمپنی کے مطابق یہ اکیس انچ کی سکرین دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی سکرین ہے

ایسر کا کہنا ہے کہ اس خم دار سکرین کا خم بلکل انسانی آنکھ کے خم کے مشابہہ ہے لہٰذا اس سے نہایت اعلی اور بڑا منظر دیکھنے کو ملتا ہے- کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ دیکھنے والے کو اس سکرین میں بہت زیادہ گہرائی محسوس ہوتی ہے اور کی بھی منظر کو نہایت باریک بینی سے واضح دیکھا جا سکتا ہے

Thursday, August 18, 2016

ای سی جی جانچنے والہ آلہ





ای سی جی جانچنے والہ آلہ 

ای سی جی الیکٹرو کارڈیو گرام کا مخفف ہے - یہ دل کی کیفیت معلوم کرنے کا ایک طبی طریقہ ہے- اس طریقہ میں جسم کے مختلف حصوں میں الیکٹروڈ لگا کر حالت دل کو الیکٹریکل سگنلز کی صورت میں جانچا جاتا ہے- دنیا کی معروف کمپنی ایپل نے ایک کلائی نما گھڑی کی طرز کا ایک آلہ ایجاد کیا ہے- یہ آلہ کلائی پر باندھ کر آپ کی ای سی جی کر سکتا ہے - امید کی جا رہی ہے کہ یہ آلہ یا تو کلائی کی گھڑی کی طرز کا ہوگا یا پھر انگلی میں چڑھانے والے چھلے کی طرح کا ہو گا

ایپل کا یہ آلہ ابھی زیر تکمیل ہے - ایپل اس کو مزید حساس بنانے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دے رہا ہے- یہ الہ جوں ہے تکمیل کو پہنچے گا یہ چھے مختلف طرح کی ریڈنگ لے کر آپ کے دل کی کیفیت انتہائی درست انداز میں گھڑی کی سکرین پر پیش کر دے گا

Tuesday, August 2, 2016

موبائل فون کا زیادہ استعمال چہرے پر بدنما اثرات مرتب کرتا ہے، ماہرین


لندن: دنیا کے ممتاز ماہرینِ جلد نے خبردار کیا ہے کہ موبائل فون کا حد سے زائد استعمال آپ کو بوڑھا اورچہرے کو بد نما بھی بنا سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق موبائل فون جھکی ہوئی گردن، آنکھوں کی تھکاوٹ اور چہرے کے داغ دھبوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق لوگ روزانہ درجنوں مرتبہ اپنے فون کو دیکھتے ہیں جس کے مضر اثرات چہرے کو بدنما بناسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ خواہ ٹیکسٹ پڑھنا ہو، اسکرولنگ ہو یا بات کرنی ہو، سیل فون رکھنے والے خواتین و حضرات دن میں 85 سے 90 مرتبہ اپنے فون کو دیکھتے ہیں جس سے جبڑے لٹکنے کے ساتھ ساتھ کیل مہاسوں کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔
لندن وژن کلینک کے ماہرین کا کہنا ہےکہ موبائل فون کو مسلسل تکتے رہنا آپ کی آنکھوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوسکتا ہے، ہم میں سے تمام لوگ یہ جانتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے دیر تک کمپیوٹر کو تکتے رہنے سے بصارت کو نقصان پہنچتا ہے اسی لیے بار بار کہا جاتا ہے کہ کچھ وقت کے لیے کمپیوٹر سے نگاہ ہٹا کر دور دیکھا جائے تاکہ اس نقصان کا ازالہ کیا جاسکے۔

ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون آنے سے ہم ای میل سے لے کر ٹویٹ تک ہرشے کو اپنے فون پر ہی پڑھتے ہیں اور ہاتھ میں دھرا یہ آلہ ہماری نظروں کو آرام نہیں لینے دیتا اور ہم اس چکر کو توڑ نہیں پاتے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ فون دیکھتے ہوئے ہم صرف 4 سے 8 مرتبہ پلک جھپکاتے ہیں جب کہ عام طور پر 18 سے 20 مرتبہ یہ عمل کرتے ہیں اس سے آنکھوں میں خشکی اور دھندلی نظر کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ پانی زیادہ پیا جائے اور پلک جھپکانے کا عمل کم نہ کیا جائے۔

چہرے پر دانے اور مہاسے
ہارلے میڈیکل گروپ کے ماہرین کے مطابق آپ کا فون دن بھر مختلف جگہوں پر پڑا رہتا ہے اور اس میں آپ کی توقع سے زیادہ جراثیم اور بیکٹیریا جمع ہوتے رہتے ہیں، اب اگر آپ طویل فون کالز کے رسیا ہیں تو یہ جراثیم اور بیکٹیریا چہرے کی جلد سے چپک کر کیل مہاسوں کی وجہ بن سکتے ہیں، یہ جراثیم اور بیکٹیریا جلد کے مساموں میں پھنس جاتے ہیں اور جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ فون براہِ راست جلد سے چپکا رہتا ہے اور جراثیم اور بیکٹیریا جلد پر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اگر اینٹی بیکٹیریل وائپس درکار ہوں تو روزانہ فون کو اس سے صاف کیا جائے۔

گردن میں خم اور جوڑوں میں تناؤ
موبائل فون اور ٹیبلٹ پر سر جھکائے کام کرنے سے گردن پر افقی جھریاں پڑ جاتی ہیں اور ہڈی میں معمولی خم آجاتا ہے جسے ’’ٹیک نیک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ فون استعمال کرتے ہوئے گردن کو سیدھا رکھا جائے کیونکہ گردن کی جلد قدرے پتلی اور نازک ہوتی ہے اسی لیے فٹنس ماہرین کا کہنا ہے بہتر ہے کہ چند گھنٹوں کے لیے فون رکھ دیا جائے، واک پر جائیں، دوستوں سے ملیں یا کتاب پڑھیں اور اپنی گردن بچائیں۔ غذائی ماہرین اس کے تدارک کے لیے ہری سبزیاں، وٹامن سی، اور بیریاں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اس کےعلاوہ جبڑے کو کاندھوں سے ملانے والا پٹھا بھی موبائل فون کے استعمال سے متاثر ہوسکتا ہے جو منہ کو نیچے کی جانب موڑ سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ منہ کھول کر بند کرنے کی مشق کریں اور ہونٹوں کو دانتوں کی جانب دباکر کھینچیں۔

جلد پر سیاہ دھبے اور داغ
تمام فون اور ٹیبلٹ سے نیلی روشنی خارج ہوتی ہے جس کا طولِ موج ( ویو لینتھ) الٹراوائلٹ شعاعوں جیسا ہوتا ہے۔ اس کا جلد پر اثر بھی ویسا ہی ہوتا ہے اور یہ جلد پر دھبے اور جھائیوں کی وجہ بن سکتا ہے ۔ ضروری ہے کہ فون کی روشنی کم کی جائے اور جلد پر سن بلاک استعمال کیا جائے۔

Wednesday, July 20, 2016

انٹرنیٹ پر صارفین کی 46.1 فیصد تعداد ہر وقت آن لائن رہتی ہے


واشنگٹن: انٹرنیٹ پر اعدادوشمار کے مطابق صارفین کی 46.1 فیصد تعداد ہروقت آن لائن رہتی ہے اور فیس بک پر فی سیکنڈ 5 لوگ نیا اکاؤنٹ بناتے ہیں۔

اعدادو شمار کے مطابق انٹرنیٹ پر صارفین کی 46.1 فیصد تعداد ہروقت آن لائن رہتی ہے اور موبائل انٹرنیٹ کی وجہ سے ٹویٹس، فیس بک پوسٹس اورگوگل سرچز کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کے تحت فی سیکنڈ 54 ہزار 907 گوگل سرچز، 7 ہزار 252 ٹوئٹس، ڈھائی لاکھ سے زائد ای میلز اور یوٹیوب پر سوا لاکھ سے زائد ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں۔ اس انٹرنیٹ سیکنڈ کو بڑھایا جائے تو ساڑھے تین لاکھ ٹوئٹس فی منٹ ہوتی ہیں اور اس طرح ایک سال میں 200 ارب ٹوئٹس کیے جارہے ہیں جب کہ پہلا ٹوئٹ 21 مارچ 2006 کو کیا گیا تھا۔

لائیو اعدادوشمار کے مطابق فی سیکنڈ بھیجی جانے والی لاکھوں ای میلز میں سے 67 فی صد اسپیم یعنی اشتہاری اور فالتو ای میلز ہوتی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر گوگل کو 3 ارب مرتبہ سرچ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب کہ 1998 میں گوگل سروس پیش کی گئی تو اس سال روزانہ صرف 10 ہزار سرچ ہوتی تھیں۔

ٹویٹس اور ای میل سے ہٹ کر ہر سیکنڈ میں انسٹاگرام پر 729 فوٹو اپ لوڈ کیے جارہے ہیں اور اسکائپ پر 2,177 کالز کی جارہی ہیں۔ ہرسیکنڈ میں 5 نئے لوگ فیس بک پر اپنا اکاؤنٹ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریڈیٹ اور ایلیکسا پر فی سیکنڈ 286 ووٹ کاسٹ کیے جاتے ہیں اور 23 کمنٹس پوسٹ ہوتے ہیں۔

دوسری جانب نیٹ فلکس نے حیرت انگیز اعدادوشمار پیش کیے ہیں کیونکہ اس کے 80 لاکھ صارفین فی سیکنڈ 1,450 گھنٹے کی ویڈیو اور ٹی وی شوز دیکھتے ہیں۔

Monday, July 18, 2016

آسٹریلوی انجینئروں نے دنیا کا پہلا ’’چرواہا روبوٹ‘‘ تیار کرلیا


سڈنی: آسٹریلوی ماہرین نے مویشیوں کے ریوڑ پر نظر رکھنے والا ایک ’’چرواہا روبوٹ‘‘ تیار کیا ہے جو تھری ڈی کیمرے اور دیگر جدید آلات سے لیس ہے۔


سڈنی یونیورسٹی کی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ ’’سواگ بوٹ‘‘ نامی یہ روبوٹ فصلوں سے گوبھی بھی نکال سکتا ہے اور وہ بھی انسانوں سے 6 گنا زائد رفتار سے۔ روبوٹ کو اس وقت برطانیہ میں آزمایا جارہا ہے۔ یہ روبوٹ غیرہموار جگہوں پر بھی چل سکتا ہے۔ آزمائشی طور پر سواگ بوٹ مویشیوں کی رہنمائی کرسکتا ہے ، کھائیوں اور دلدلی علاقوں میں بھی چل سکتا ہے۔


بیٹری سے چلنے والا یہ روبوٹ 9 سے 12 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے لیکن اس کے لیے سطح کا ہموار ہونا ضروری ہے اگلے مراحل میں روبوٹ کو جانوروں کی مزید نگہداشت اور فصلوں کی دشمن گھاس پھوس صاف کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق روبوٹ نے گائے بیلوں کو ڈرا کر انہیں ایک جگہ رہنے پر مجبور کیا اور اس کے بعد اسے جانوروں کی مزید نگرانی کے لیے تیار کیا جائے گا۔



Tuesday, June 28, 2016

امریکی کمپنی نے بجلی پیدا کرنے والے کھلونے تیار کرلیے


نیویارک: امریکی کمپنی نے ایسے کھلونے بنائے ہیں جو انسانی حرکت کو برقی توانائی میں بدل دیتے ہیں اور کھیل کھیل میں بجلی پیدا کرتے ہیں۔

امریکی کمپنی نے کودنے والی رسی اور گیند میں جنریٹر لگایا ہے جو حرکت کی توانائی کو برقی چارج میں بدل دیتا ہے۔ ان میں سے ساکٹ اور پلس نامی 2 پراڈکٹ انسانی حرکت کو بجلی میں تبدیل کردیتی ہے۔



کمپنی کے مطابق صرف 30 منٹ تک فٹبال کھیلنے یا رسی کودنے سے آپ اپنا اسمارٹ فون اتنا ضرور چارج کرسکتے ہیں جسے مزید 3 گھنٹے تک چلایا جاسکے۔


کمپنی نے سوکٹ نامی فٹبال اور بجلی پیدا کرنے والی رسی بھی تیار کی ہے جس کے اندر مائیکرو جنریٹر نصب کیے گئے ہیں۔


اس کے علاوہ بچوں کی گاڑی اور سوٹ کیس کے پہیوں کی حرکت سے بھی بجلی بنانے کے کامیاب تجربات کیے گئے ہیں۔ پلس اور ساکٹ میں یو ایس بی پورٹ لگائی گئی ہے جو لیمپ، ریڈیو اور موبائل فون کو چارج کرتی ہے۔ اس کے علاوہ زمین پر بورڈ لگا کر چلنے پھرنے سے بجلی بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔

Friday, June 17, 2016

’انرجی اسکوائر‘، اب ایک وقت میں متعدد موبائل فون چارج کریں


موبائل فون کے استعمال میں سب سے بڑی مشکل، جسے اس بے حد مفید آلے کی خامی بھی کہا جاسکتا ہے، اس کی بیٹری کا چارج ختم ہو جانا ہے۔ برانڈ کے لحاظ سے ہر سیل فون کا چارجر بھی الگ ہوتا ہے۔

موبائل فون کی بیٹری اپنے مخصوص چارجر ہی سے چارج ہوسکتی ہے۔ سیل فون کے علاوہ کئی دوسرے دستی برقیاتی آلات میں بھی  بیٹری کا استعمال ہوتا ہے، جنھیں چارج کرنے کے لیے مخصوص ماڈل کا چارجر  درکار ہوتا ہے۔ موبائل فون کا مسلسل استعمال ہر لمحے اسے ’زندہ‘ رکھنے والی بیٹری کی توانائی ختم کرتا رہتا ہے اور اسے چارج کرنا اُس وقت سب سے بڑا مسئلہ معلوم ہوتا ہے جب ہم سفر میں ہوں یا ایسی جگہ موجود ہوں جہاں بیٹری چارج کرنے کے لیے بجلی اور چارجر میسر نہ ہو۔

حال ہی میں ماہرین نے اس حوالے سے بھی ایک ٹیکنالوجی کے کام یاب تجربات کیے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے کسی چارج شدہ بیٹری والے موبائل سیٹ سے دوسری ڈیوائس کی بیٹری کو توانائی منتقل کی جاسکتی ہے۔ اسمارٹ فونز اور ایسے دیگر چھوٹے آلات کی تیاری اور ان سے متعلق صارفین کی بعض مشکلات کا حل نکالنے کے سائنس دانوں کی کوششیں جاری ہیں اور انہی کوششوں کی بدولت اب مختلف برقیاتی آلات کی بیٹریوں کا ایک ہی وقت میں چارج ہوجانا ممکن ہوگا۔

اگر آپ کے پاس کئی برانڈز کے موبائل فونز اور دیگر دستی برقیاتی آلات  ہیں تو یقیناً ان سب کو چارج کرنا آپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ’ انرجی اسکوائر‘  کی بدولت  جلد ہی ایسے آلات کے صارفین کی یہ پریشانی  دور ہوجائے گی۔ یہ ایک ایسی ’جادوئی‘ ڈیوائس ہے  جو ہر برانڈ کے موبائل فون سیٹ اور دیگر آلات کو چارج کرسکتی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس ڈیوائس سے  بہ یک وقت کئی بیٹریاں چارج کی جاسکتی ہیں۔ ’انرجی اسکوائر‘ کا پروٹوٹائپ بنایا جاچکا ہے اور اب اس کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی غرض سے آن لائن مہم جاری ہے۔ اس منفرد بیٹری چارجر کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے ایک لاکھ ڈالر درکار ہیں۔

یہ چارجنگ سسٹم ایک چوکور  مسطح ٹکڑے ( چارجنگ پیڈ ) اور پانچ اسٹیکرز پر مشتمل ہے۔ انرجی اسکوائر سے چارج  کیے جانے والے سیل فون اور دوسرے آلات میں مائیکرویوایس بی، یو ایس بی ٹائپ  سی یا لائٹننگ کنیکٹرز کا ہونا ضروری ہے۔ جن ڈیوائسز کو چارج کرنے کی ضرورت ہے ان کی پُشت پر مخصوص اسٹیکرز چسپاں کردیے جاتے ہیں۔ یہ برقی رَو کو منتقل کرنے والی ٹیکنالوجی سے آراستہ کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب چارجنگ پیڈ ’ ایصالی مربعوں‘ پر مشتمل ہے۔  اسٹیکرز چسپاں کرنے کے بعد ڈیوائسز کو ’ انرجی اسکوائر‘ پر رکھا جاتا ہے تو ان میں موجود ایصالی نظام کے ذریعے برقی رَو چارجنگ پیڈ سے سیل فون اور دیگر آلات کی بیٹریوں میں بنا کسی تار کے منتقل ہونے لگتی ہے اور چند ہی منٹوں میں یہ چارج ہوجاتی ہیں۔ انرجی اسکوائر کے خریداروں کو اس ڈیوائس کے ساتھ پانچ اسٹیکرز بھی دیے جائیں گے اور اس کی قیمت سو ڈالر کے لگ بھگ ہوگی۔

Thursday, June 9, 2016

چین: دنیا کا پہلا مسافر ڈرون تیار


چین کے ماہرین نے محفوظ ، ماحول دوست اور جدید مسافر ڈرون تیار کر لیا ، ای ہینگ 184 نامی ڈرون طیارہ تجرباتی طور پر ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سےمختصر دورانیے تک اڑان بھرے گا

بیجنگ : چینی کمپنی نے دنیا کا پہلا مسافر ڈرون تیار کر لیا ، مسافر ڈرون میں ایک فردکے بیٹھنے کی گنجائش ہے ۔
چین کے ماہرین نے محفوظ ، ماحول دوست اور جدید مسافر ڈرون تیار کر لیا ۔ چینی کمپنی کا ای ہینگ 184 نامی ڈرون طیارہ تجرباتی طور پر ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سےمختصر دورانیے تک اڑان بھرے گا ۔ ای ہینگ 184 میں ایک سواری کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ۔

اس مسافر ڈرون کو سمارٹ فون ایپ کے ذریعے آسانی سے آپریٹ کیا جا سکتا ہے ، جبکہ یہ کسی پائلٹ کے بغیر خود کار طریقے سے پرواز کرے گا ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈرون کی ساخت میں جدت لائی جائے گی ، رواں سال کے آخر تک مسافر ڈرون کو کمرشل بنیادوں پر متعارف کرایا جائے گا ۔

Wednesday, June 1, 2016

اکاؤنٹ ہیکنگ کی فوری اطلاع فراہم کرنے والی ایپلی کیشن متعارف


مائیکروسافٹ ایپ اسٹور پر سامنے آنے والی نئی ایپلی کیشن آپ کے کسی بھی اکاؤنٹ کے ہیک ہو جانے کی فوری اطلاع فراہم کر سکتی ہے۔
آئے دن آن لائن اکاؤنٹس ہیک ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ ہی دن پہلے لنکڈان ویب سائٹ کے لاکھوں اکاؤنٹس ہیک ہوئے اور ان کا مکمل ڈیٹا بیس انٹرنیٹ پر جاری کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ صارفین کی اپنی غلطی کی وجہ سے بھی ان کے اکاؤنٹس ہیک ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی اکاؤنٹ کے ہیک ہو جانے کی صورت میں سب سے ضروری بات یہ  ہے کہ صارف کو فوری طور پر علم ہونا چاہیے کہ اس کا پاس ورڈ چوری ہو چکا ہے۔ اکثر صارفین اس بات سے لاعلم رہتے ہیں اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔

کسی اکاؤنٹ کے ہیک ہو جانے کی فوری اطلاع فراہم کرنے کے لیے ایک نئی ایپلی کیشن ’’ہیکڈ‘‘ کے نام سے متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ یونیورسل ایپلی کیشن ونڈوز پی سی اور اسمارٹ فون پر انسٹال کی جا سکتی ہے۔ یہ ایپلی کیشن انٹرنیٹ پر ہیک شدہ اکاؤنٹس کی جاری ہونے والی تفصیلات پر نظر رکھتی ہے اور جیسے ہی آپ کے کسی اکاؤنٹ کا ذکر اس میں موجود ہو تو یہ فوری طور پر اس بات کی اطلاع دیتی ہے۔

اس ایپلی کیشن کے موجود ہونے سے صارفین کو خود بار بار اپنے اکاؤنٹس کی چھان بین نہیں کرنا پڑتی بلکہ ہر 12 گھنٹوں کے بعد یہ خود بخود بیک گراؤنڈ میں رہتے ہوئے کام کرتی رہتی ہے۔ یہ ایپلی کیشن پرائیویسی کی ضمانت دیتی ہے کہ آپ کی تفصیلات کسی دوسرے کو فراہم نہیں کی جاتیں۔ ہیکڈ ایپلی کیشن مائیکروسافٹ اسٹور سے مفت ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

Wednesday, March 9, 2016

Microsoft takes on Oracle, opening up database software to Linux


(Reuters) - Microsoft Corp planned on Monday to announce its move into a new business, unveiling a database software that works with a rival to its Windows operating system, a move that takes aim at a market long dominated by Oracle Corp.

Microsoft’s new database product will work with the Linux operating system. The move is the latest to show Microsoft’s increasing willingness to work with competing products, a radical change for the once fiercely protective company.

Microsoft’s more open strategy has become a hallmark of Chief Executive Officer Satya Nadella since he took over in 2014.

In an era of exploding amounts of data, much of it used by companies trying to win more business and establish competitive edges, data management has become critically important.

Overall database-software sales, well north of $30 billion, have kept rising even though spending in information technology has been generally lackluster, said Gartner analyst Merv Adrian.

“If you look at the companies that are transforming and disrupting industries, it is often with data at the core,” said Scott Guthrie, executive vice president for cloud and enterprise at Microsoft. “All of them are using data in a much richer way now to understand their customers.”

He cited electronic signature company DocuSign as a longstanding customer of SQL Server, the database product that is expanding to Linux. So is Renault Sport, which uses sensors that collect myriad data points to hone performance of Formula One racing teams.

Microsoft’s SQL Server business ranks behind No. 1 Oracle, which has more than 40 percent market share in database software and works with Linux, Adrian said.

Microsoft has 21.5 percent of the market, he said, pushing International Business Machines Corp from second to third place in 2013. The product is one of Microsoft’s biggest business lines. SAP SE also competes in the area.

Until now, Microsoft on-premises database software worked only with its own Windows operating system. Now it will work with Linux, which has gained significant traction in recent years.

“Larry’s not going to lose any sleep,” said Adrian, referring to Oracle CEO Larry Ellison, “but yes, they’ll notice it. It’s a significant competitive threat they didn’t have before.”

It was unclear how many customers Microsoft will win for its Linux product, which will be in preview mode until mid 2017.

Under Nadella, Microsoft has made many products compatible with other systems, including Apple’s iOS. Late last year, it opened its cloud service, Azure, to customers of Red Hat(RHT.N), a company that makes a popular version of Linux.

Thursday, February 25, 2016

گوگل نے ایس ایم ایس کے متبادل نیا سسٹم متعارف کروا دیا


گوگل نے دنیا بھر کے 800 موبائل آپریٹرز کے ساتھ شراکت کر کے ایس ایم ایس کی بجائے آر سی ایس (رچ کمیونیکشن سروس) متعارف کروانے کا اعلان کر دیا
لاہور (ویب ڈیسک) گوگل نے دنیا بھر کے 800 موبائل آپریٹرز کے ساتھ شراکت کر کے ایس ایم ایس کے متبادل سسٹم پر کام شروع کر دیا ہے ۔
اب ایس ایم ایس کا نام آر سی ایس (رچ کمیونیکشن سروس) ہو گا جو نہ صرف صارفین کو تحریری پیغامات اور ایم ایم ایس بھیجنے میں مدد دے گا بلکہ ایموجیز، فائلز، گروپ چیٹس اور یہاں تک کہ پیغام پڑھنے پر پڑھے جانے کا فیچر بھی سامنے آئے گا ۔
گوگل کی طرف سے 800 موبائل آپریٹرز کی مدد سے یہ سسٹم اینڈرائیڈ ڈیوائس کے لیے متعارف کرایا جائے گا ۔

Thursday, February 4, 2016

گوگل کی کمپنی ’’الفابیٹ‘‘ نے منافع کمانے میں ’’ایپل‘‘ کو پیچھے چھوڑ دیا



لندن: یہ دور ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کا دور ہے اور اس میں کام کرنے والی کمپنیاں نفع کمانے کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں اور اکثر نفع کمانے میں گوگل اور ایپل کا سامنا رہتا ہے تاہم اب تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ نے چوتھی سہ ماہی کا منافع کمانے میں ایپل کو پچھاڑ دیا اورٹیکنالوجی کی دنیا کی قیمتی ترین کمپنی بن گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق الفابیٹ کمپنی نے رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں 4.9 ارب ڈالر کمائے اور یوں ان کے سالانہ نفع میں 4.7 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس سے الفابیٹ کے شیئر کی قمیت میں 9 فیصد اضافہ ہوگیا۔ اس اضافے کے بعد اب الفابیٹ کمپنی کی قیمت 568 ارب ڈالر ہوگئی ہے جو پاکستانی روپوں میں 568 کھرب روپے بنتی ہے جب کہ ایپل کی کل قمیت 535 ارب ڈالرہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ الفابیٹ کا سالانہ نفع 16.3 ارب ڈالر سے بڑھا ہے جب کہ اسی کمپنی کی ایک اور شاخ ادر بیٹس کو اسی سہ ماہی کے دوران 3.6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، گوگل کا آپریٹنگ انکم بڑھ کر 23.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اوراس کی نفع میں اضافہ کی بڑی وجہ آن لائن اشتہارروں میں اضافہ ہے۔ الفابیٹ کے شیئر کی قیمت اس وقت 770 ڈالر ہے جب کہ اس کی اسٹاک مارکیٹ میں قیمت 517 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

مزوہو سیکورٹیز کے مینجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہورہا ہے کہ گوگل مسلسل موبائل اشتہارات میں لیڈ کر رہا ہے جب کہ تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل نے گزشتہ سال اپنے فیچرز میں کوئی بڑا انوکھا آئیڈیا نہیں دیا جب کہ اس کے مقابلے میں الفابیٹ نے کئی نئے آئیڈیا دیئے ہیں جس کا اسے انعام نفع کی صورت میں ملا۔ گوگل پر سال بھر ڈرایورلیس کار، انٹرنیٹ رکھنے والے غباروں اور گوگل گلاس کے لاؤنچ کرنے سے متعلق کافی دباؤرہا تاہم پھر بھی گوگل نے میدان مارلیا۔

Wednesday, January 27, 2016

ورڈ پریس سکیوریٹی، ایک مکمل گائیڈ


دنیائے ویب میں موجود بائیس فیصد فعال ڈومینز ’’ورڈ پریس‘‘ استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی قریباً ہر چار میں سے ایک ویب سائٹ ورڈ پریس پر بنائی گئی ہے۔ اپنی لچکدار ساخت اور استعمال میںآسانی کی وجہ سے بلاشبہ ورڈ پریس اس وقت دنیا کا معروف ترین کانٹینٹ منیجمٹ سسٹم (CSM) ہے۔ ایک وقت تھا جب ویب سائٹ بنانا جان جوکھوںکا کام ہوا کرتا تھا، اب تو ورڈپریس کے ذریعے چند منٹوں میں کوئی بھی اپنی ویب سائٹ بنا سکتا ہے۔ جو چیز اس قدر مشہور ہو اور اتنی بڑی تعداد میں استعمال ہو رہی ہو ہیکرز کا نشانہ نہ بنے یہ ممکن نہیں۔ اس وقت ورڈپریس ہیکرز کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ آئے دن ورڈپریس کی سیکڑوں ویب سائٹس ہیک ہو رہی ہیں۔ اس ہیکنگ کی وجہ ورڈپریس میں موجود اس کی اپنی کوئی خامی کے علاوہ انسٹال کسی پلگ اِن میں کوئی خرابی بھی ہو سکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر ویب ڈیویلپر یا ایڈمن کی اپنی کسی غلطی کی بنا پر بھی ورڈپریس پر بنائی گئی ویب سائٹ باآسانی ہیک ہو سکتی ہے۔

اگر آپ ورڈپریس کو اچھی طرح جانتے ہیں یا آپ ایک اچھے ویب ڈیویلپر ہیں جسے بہت اچھی کوڈنگ آتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ورڈپریس کو ہیکنگ سے بچا سکتے ہیں۔ ورڈپریس ویب سائٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی ایک چیزوں کا پتا ہونا چاہیے۔ آئیے آپ کو کچھ ایسی ہی سکیوریٹی ٹپس کے بارے میں بتاتے ہیں۔

ویب سائٹس کون ہیک کرتے ہیں؟

ویب سائٹس کا خراب اور ہیک ہونا بہت ہی عام سی بات ہے۔ میں خود سیکڑوں ہیک شدہ اور وائرس زدہ ویب سائٹس ٹھیک کر چکا ہوں۔ ویب سائٹ کو واپس اصلی حالت میں لانے کے بعد صاحب ویب سائٹ کا ہمیشہ مجھ سے یہی سوال ہوتا ہے کہ ’’میں اپنی ویب سائٹ کو ہیکرز سے کیسے محفوظ بنا سکتا ہوں؟‘‘
اور میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ’’ہیکرز آپ کی ویب سائٹ کے پیچھے نہیں پڑے ہوئے، بلکہ یہ بوٹس اور اسکرپٹ ہیں جو یہ کام انجام دے رہے ہیں۔‘‘

سن 2012 میں لگ بھگ ایک بلین ہیکنگ کی کوششیں کی گئیں۔ آپ خود سوچیں کہ دنیا میں اتنے ہیکرز موجود ہیں جو اتنی بڑی تعداد میں کوششیں کر سکتے ہیں؟ اگر دنیا بھر کے ہیکرز ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے بھی ہیکنگ کی کوششیں کرتے رہیں تو اس نمبر کو پہنچنا بہت مشکل ہے۔ البتہ بلاشبہ دنیا میں اتنے اسکرپٹس اور بوٹس ضرور موجود ہیں جو دن رات اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ ہیکرز اسکرپٹس بناتے ہیں اور بوٹس انھیں خودکار طریقے سے ویب سائٹس پر آزماتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر ایسے اسکرپٹس وائرس زدہ کمپیوٹرز سے پھیلتے ہیں۔ کمپیوٹرز جن پر ٹروجن، مال ویئر، اسپائی ویئر وغیرہ حملہ آور ہوتے ہیں وہ ایسے اسکرپٹس کو پھیلانے کا خودکار کام شروع کر دیتے ہیں۔ زیادہ تر روس اور چین سے تعلق رکھنے والے ہیکرز یہ اسکرپٹس بناتے ہیں۔ البتہ عرب ہیکرز بھی کسی سے پیچھے نہیں خاص کر ترکی اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز بھی خوب ورڈپریس کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔

آخر ہیکرز آپ کی ویب سائٹ سے کیا چاہتے ہیں؟

ہیک ہونے والی ویب سائٹ کے مالک کا اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ ’’آخر ہیکرز نے میری ہی ویب سائٹ کو کیوں نشانہ بنایا؟ میری ویب سائٹ سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‘‘
ایک وقت تھا جب کسی خاص مقصد یا پیغام کے لیے کوئی ویب سائٹ ہیک کی جاتی تھی۔ آج کل کے ’’اسکرپٹ کڈی‘‘ بنا کسی امتیاز کے جو کمزور ورڈپریس یا کوئی دوسری ویب سائٹ ملے ہیک کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ زیادہ تر ہیک شدہ ویب سائٹس کو ٹھیک کرتے ہوئے بندہ سوچتا ہے کہ اسے ہیک کہنا بھی درست نہیں۔ کیونکہ ہمیں پتا ہوتا ہے کہ ورڈپریس کی کن فائلوں میں تبدیلی کی گئی ہو گی۔ اس لیے براہ راست چند فائلوں کو دیکھ کر ویب سائٹ ٹھیک کی جا سکتی ہے۔ اسکرپٹس کے ذریعے کی گئی اس ہیکنگ کا زیادہ تر مقصد ری ڈائریکشن ہوتی ہے۔ تاکہ آپ کی ویب سائٹ پر آنے والا ٹریفک ان کی ویب سائٹ کی طرف موڑا جا سکے۔ ظاہر ہے ایسی ویب سائٹس زیادہ تر منشیات، جوئے اور غیراخلاقی مواد کے حوالے سے ہوتی ہیں۔

Friday, January 22, 2016

سی ڈی یا ڈی وی ڈی ڈرائیو کی درستگی چیک کریں



یو ایس بی فلیش ڈرائیوز کی آمد نے آپٹیکل ڈِسک ڈرائیوز (ODD) کا استعمال انتہائی محدود کر دیا ہے۔ آپٹیکل ڈِسک ڈرائیو جسے ہمارے ہاں عموماً سی ڈی ڈرائیو یا ڈی وی ڈی ڈرائیو کہا جاتا ہے،کو اب بمشکل ونڈوز کی انسٹالیشن کے وقت ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹر میں لگی آپٹیکل ڈِسک ڈرائیو فارغ رہ رہ کر ناکارہ ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کبھی کوئی سی ڈی یا ڈی وی ڈی بنانے کے ضرورت پڑے تو یہ ڈرائیو بجائے ڈیٹا درست طریقے سے ڈی وی ڈی پر ڈالنے کے اُسے خراب کر دیتی ہے۔

اگر آپ بھی اس مسئلے کا شکار ہیں تو اپنا وقت اور ڈی وی ڈیز کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو ’’آپٹی ڈرائیو کنٹرول‘‘ سافٹ ویئر درکار ہو گا جو آپ کی آپٹیکل ڈِسک ڈرائیو کو چیک کر کے بتا سکتا ہے کہ آیا یہ درست طریقے سے کام کر رہی ہے یا نہیں۔ کیونکہ ایسا بھی ممکن ہے کہ آپ سی ڈی یا ڈی وی ڈی ہی خراب استعمال کر رہے ہوں، اس لیے آپٹیکل ڈِسک ڈرائیو کو چیک کر لینا انتہائی ضروری ہے۔

Opti Drive Control سافٹ ویئر ویسے تو ونڈوز 7 کے لیے بنایا گیا ہے لیکن یہ ونڈوز 8 اور 10 پر بھی درست طریقے سے کام کرتا ہے۔



آپٹی ڈرائیو کنٹرول کو انسٹال کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ یہ پورٹ ایبل صورت میں دستیاب ہے۔ اسے استعمال کرنے کے لیے آپ کو ایک عدد خالی سی ڈی یا ڈی وی ڈی درکار ہو گی، جسے ڈرائیو میں لگا کر اس سافٹ ویئر کے ذریعے ٹیسٹ کا آغاز ہو گا۔ سی ڈی پر نہ صرف ڈیٹا ڈالا جائے گا بلکہ اس سے پی سی میں کاپی کر کے بھی دیکھا جائے گا تاکہ ٹرانسفر ریٹ کا پتا چل سکے۔



آپ کا سی ڈی روم سی ڈی یا ڈی وی ڈی کو پڑھ تو پا رہا ہے لیکن اس میں موجود ڈیٹا کاپی نہیں کر پا رہا تو اس صورت میں بھی یہ سافٹ ویئر انتہائی کارآمد ثابت ہو گا۔ اس مسئلے کا شکار اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی ڈی وی ڈی خراب ہو چکی ہے لیکن دراصل مسئلہ آپٹیکل ڈِسک ڈرائیو میں ہوتا ہے۔



ٹیسٹ کے دوران استعمال ہونے والی خالی سی ڈی یا ڈی وی ڈی کے بارے میں یہ سافٹ ویئر بہت کارآمد معلومات بھی دِکھاتا ہے جس سے آپ جان سکتے ہیں کہ آپ کی آپٹیکل ڈرائیو کو کسی مخصوص برانڈ کی سی وی ڈی کے ساتھ مسئلہ تو نہیں۔ اگر سی ڈی اور ڈی وی ڈی استعمال کرنا آپ کا روز مرہ کا معمول ہے تو یہ پروگرام ضرور استعمال کریں۔ یاد رہے کہ یہ پروگرام صرف مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے اسے ٹھیک نہیں۔ 

Wednesday, January 20, 2016

Microsoft pledges ‘cloud computing for public good'

Computing giant Microsoft has pledged to provide $1bn-worth (£700m) of cloud computing resources to organisations it deems to be working for the "public good".



The resources will be shared out over the next three years to about 70,000 non-profits and 900 university research projects.
In simplest terms, cloud computing is the term given to storing data on the internet, rather than on a local computer.

As well as making data more easily accessible, the added promise for non-profits is that the resources will provide vast amounts of computing power that would ordinarily be out of reach for all but the biggest businesses.

In a blog post explaining the initiative, Microsoft's chief legal officer Brad Smith wrote: "Cloud services can unlock the secrets held by data in ways that create new insights and lead to breakthroughs, not just for science and technology, but for addressing the full range of economic and social challenges and the delivery of better human services."

The crunching of so-called "big data" is seen as a major opportunity for non-profits dealing in social issues that pose a cumbersome problem without the kind of processing power cloud computing can provide.

In that respect, Microsoft's pledge isn't for a tangible product, or cash, but instead access to servers and services that normal businesses would need to pay considerable fees for.

The money will also be spent on improving "last mile" internet connectivity - the hope is countries that are under connected will begin to enjoy some of the luxuries more developed internet nations have - such as broadband at home.

Tough crowd

Other companies, particularly Facebook, have pursued similar goals.
Facebook's Internet.org project is investing in connectivity technologies - such as drones - to fill that last mile, helping what founder Mark Zuckerberg refers to as the "next billion" people to access the web.

However, initiatives such as this aren't always so well received. Facebook's Free Basics scheme, in which certain mobile sites were accessible for free, has caused uproar in India, where local businesses say Facebook is giving itself an unfair advantage over local competitors.

Microsoft will invariably be hit with the same accusation - that a donation over three years will be made in the hope that organisations will become ingrained in the Microsoft cloud ecosystem for many more years to come.

That said, Microsoft boss Satya Nadella has gained considerable applause for his continually expressed desire to use Microsoft's immense size and wealth in developing countries, including his native India.

As well as being a guest of Michelle Obama at the recent State of the Union address, the 48-year-old is attending the World Economic Forum in Davos this week, seeking to stress Microsoft's potential to provide computing power for initiatives beyond big business.

In a blog post published on Wednesday, he wrote: "If cloud computing is one of the most important transformations of our time, how do we ensure that its benefits are universally accessible?

"What if only wealthy societies have access to the data, intelligence, analytics and insights that come from the power of mobile and cloud computing?"

Wednesday, December 2, 2015

Vodafone launches gigabit fibre broadband products in Ireland

Roll-out of Ireland’s Siro network advances with the launch of a 1Gbps domestic service backed by Vodafone

The 15,000 residents of Carrigaline in County Cork will be the first to receive access to Vodafone’s first 1Gbps consumer broadband service in Ireland, which has just been launched.

The service forms part of the Siro joint venture between Vodafone and the Electricity Supply Board (ESB) – the Irish state electricity supplier – to provide fibre-to-the-premises (FTTP) connections using ESB’s overground and underground infrastructure to replace the copper last mile.

Siro, which is backed to the tune of €450m (£317m), aims to pass small towns of more than 4,000 properties and will expand across Ireland by 2018, touching 500,000 homes and businesses. It is the first project in Europe to use electricity infrastructure to bring ultrafast broadband closer to the consumer.

Carrigaline, a commuter town near Cork, will be the first of 51 towns to get Siro, offering speeds of up to 1Gbps, many times faster than the current Irish average of around 30Mbps.

“The successful economies of the future will be gigabit societies with ultrafast fibre-optic connections available everywhere,” said Vodafone Group public policy director Markus Reinisch.

“Vodafone is playing its part in realising that objective: We have demonstrated that we invest in FTTP when conditions allow us to do so, working together with other forward-looking companies to build the ultrafast digital infrastructure that Europe needs.”

At the same time, Vodafone announced a major expansion of its FTTP network in Portugal, adding 2.75 million homes to the roll-out by the end of 2016 at a cost of €125m. It has already passed 2.2 million premises in the country, and is also planning similar network builds in Spain and Italy – the Italian network in collaboration with electricity supplier Enel.

In the UK, the mobile operator re-entered the consumer broadband market earlier in 2015, backed by network assets that it acquired from Cable & Wireless.

However, Vodafone Connect, which is available to 22 million properties, is not a full FTTP service and only provides a top-end superfast service of 76Mbps, a far cry from what it is making available overseas.

CW+

Features

Enjoy the benefits of CW+ membership.

Five key checks to ensure a business is ready for cyber attacks

Top of any company’s cyber security checklist should be ensuring that the cyber security strategy is taking all changes in the operating environment into account, says BAE Systems

 


By considering five key areas, businesses can ensure they are well defended and prepared for cyber attacks, according to aerospace and defence firm BAE Systems.

1. Understand the cyber risk

“New technologies bring new opportunities, but they also introduce new risks,” said Neal Watkins, chief product officer at BAE Systems.
“As companies acquire and integrate other companies and technologies, we need to look at the new risks that brings,” he said .
This includes looking for potential risks introduced by third parties, contractors and changes in the supply chain.
Top of any company’s cyber security checklist should be ensuring that the cyber security strategy is taking all changes in the operating environment into account.
“It is important to have a living, breathing cyber security strategy that you review and update on an ongoing basis to capture all of these new risks,” said Watkins.

2. Have the right security controls

Once vulnerabilities have been identified, BAE Systems said businesses need to be prepared to make big decisions if vulnerabilities are critical.

CW+

Features

Enjoy the benefits of CW+ membership.
“We need to have the courage to make the right business risk decision to ensure that the business not only operates, but that the most critical assets are protected,” said Watkins.
“There needs to be the courage in making the difficult decisions on what systems and services are protected, and at what level, which could be crucial to retaining a customer or client,” he said.

3. Balance business and risk 

At the absolute minimum, business directors need to understand what the most critical assets are and key areas of vulnerability.
“Businesses need to make the right decision that balances security risk against commercial necessity and does the right thing by the business and customers in the long term,” said Watkins.
Leaders should discuss what cyber risk they are prepared to take, and how much they want to invest to manage it.
“There needs to be the courage in making the difficult decisions on what systems and services are protected, and at what level,” said Watkins.

4. Build a defensive culture with security-by-design

Security needs to be ingrained into the company culture, according to BAE Systems. Security by design, said Watkins, involves everybody making sure they are working securely, whatever role in the company they have.
“It’s about everyone ensuring the tasks they complete are secure in terms of process and execution, whether they are writing code in an application, delivering a service or responding to a customer or handling their data,” he said.
According to BAE Systems, security analytics, threat intelligence and situational awareness can help in discovering where the vulnerabilities are.

5. Prepare a response

Finally, the security firm noted that no security is completely effective, and there is always a chance of a successful attack.
For this reason, having a plan in place to respond and repair is what makes the difference between a full-blown crisis and a problem that can be tackled.
“There needs to be a thorough, rehearsed and tested response plan known to clients and employees, across systems and processes,” said Watkins.
“In the event of an attack or crisis, people will be measured in terms of how they respond, and making sure you have a well-thought-through, rehearsed and tested response plan is going to be critical,” he said.
The way people respond to a cyber attack or incident, according to BAE Systems, will have a major effect on operational impact and loss of productivity, as well as customer confidence.