Thursday, September 1, 2016
خم دار سکرین والا لیپ ٹاپ متعارف
Thursday, August 25, 2016
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خوشخبری
Saturday, July 23, 2016
افغان نوجوان نے بارودی سرنگ تباہ کرنے والا ڈرون تیارکرلیا
Tuesday, June 28, 2016
امریکی کمپنی نے بجلی پیدا کرنے والے کھلونے تیار کرلیے
Wednesday, December 2, 2015
Human brain’s ‘on-off switch’ for human consciousness is even more intriguing than we thought
Wednesday, November 25, 2015
Top Ten Countries With High Internet Speed
Here are top ten countries with the highest speed internet in the world:
1. South Korea 17187 kb/s
2. Japan 16,365 kb/s
3. Lithuania 11,295 kb/s
4. Sweden 11,280 kb/s
5. Romania 10,236 kb/s
6. Latvian 9,782 kb/s
7. Bulgaria 9,074 kb/s
8. Netherlands 8,734 kb/s
9. Germany 7,447 kb/s
10.Russian Federation 7,260 kb/s
The girl who went to Kate and Pippa's school, the £15bn ($22.8bn) Google chief and a romance that has rocked Silicon Valley
Only last year, Amanda Rosenberg was so friendless after moving to San Francisco that she spoke of eating her lunch alone in the toilets.
But the 27-year-old, who boarded at £31,000-a-year Marlborough College with Princess Eugenie and Kate and Pippa Middleton, certainly seems to have turned things around – for she was last night named as the new lover of Sergey Brin, 40.
Google has been rocked by talk of the romance, and a spokesman yesterday confirmed that Brin – one of the world’s richest men with a £15billion fortune – has for several months been living apart from his wife of six years Anne Wojcicki, the mother of his two children.
If they divorce, Californian law suggests their massive fortune would have to be halved – although they reportedly signed a strict pre-nuptial agreement.
While the internet was agog with talk of Brin romancing his much younger employee, the Daily Mail tracked down a distinctly unsurprised former boyfriend of Miss Rosenberg – who said she ‘knew the power of her womanly ways’.
Ewan Butler, 28, a trainee teacher living with his parents in Darlington, said: ‘Amanda’s a good looking girl, and she knows she is.
'And she’s good at “playing” men – she played me.’
Brin’s relationship with Rosenberg emerged only yesterday – but the pair were pictured together earlier this year at a New York Fashion Week event, both wearing the controversial Google Glass computerised spectacles for which she is marketing manager.
An employee of Google since she graduated with a communications degree from Leeds University, she initially worked for the internet giant in London before last year moving to San Francisco to work at its Silicon Valley nerve centre.
She soon won a role promoting Google Glass, widely criticised as the glasses which enable users to film and broadcast over the internet everything they see non-stop, worrying privacy campaigners.
Sunday, September 20, 2015
کسی مسلمان کو امریکہ کا صدر نہیں بننا چاہیے
امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند بین کارسن نے کہا ہے کہ امریکہ کا صدر کسی مسلمان کو نہیں ہونا چاہیے۔
مشہور ٹی وی چینل این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں بین کارسن کا کہنا تھا وہ اس خیال کی وکالت نہیں کریں گے کہ ’اس قوم کا رکھوالا کسی مسلمان کو بنایا جائے۔ میں اس خیال سے قطعاً اتفاق نہیں کر سکتا۔‘
کئی جائزوں کے مطابق دماغی امراض کے ریٹائرڈ سرجن بین کارسن کو ریپبلکن پارٹی کے کارکنوں میں خاصی حمایت حاصل ہے۔
یاد رہے کہ بین کارسن کے اس بیان سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی دوڑ میں سب سے زیادہ مضبوط امیدوار سمجھے جانے والے رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ اپنے ایک حامی کی اس وقت تصحیح کرنے میں ناکام رہے تھے جب اس نے کہا تھا کہ صدر براک اوباما مسلمان ہیں۔
کارکن کی تصحیح نہ کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ اپنی جماعت کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ میرا کام نہیں ہے ‘ کہ میں صدر اوباما کا دفاع کروں۔
اسلام آئین سے متصادم
اتوار کو ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے بڑے مخالف بین کارسن کے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہنے کے بعد کہ کوئی مسلمان امریکہ کا صدر نہیں بن سکتا، ان کا یہ بیان امریکہ میں شہ سرخیوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔
انٹرویو میں بین کارسن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے صدر کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مذہب امریکی آئین سے مطابقت رکھتا ہو۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کے خیال میں اسلام امریکی آئین سے مطابقت رکھتا ہے تو بین کارسن کا جواب تھا: ’ نہیں۔ مجھے معلوم نہیں۔‘
اس سے قبل گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ان کے سامنے ان کے ایک کارکن نے کہا کہ صدر اوباما ’نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ وہ پیدائشی امریکی بھی نہیں۔‘
نہ صرف یہ بلکہ مذکورہ شخص نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے یہ بھی کہا کہ ’ ہمیں اس ملک میں ایک مسئلے کا سامنا ہے، اور یہ مسئلہ یہاں رہنے والے مسلمان ہیں۔‘
یاد رہے کہ صدر اوباما ماضی میں کھلے عام اپنے عیسائی ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے صدر اوباما کے عیسائی ہونے پر شک کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
سنہ 2011 میں انھوں نے صدر اوباما کو چیلنج کیا تھا کہ وہ یہ ثابت کرنے کے لیے اپنا سرٹیفیکٹ پیش کریں کہ وہ کینیا میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس پر صدر اوباما نے اپنا برتھ سرٹیفیکیٹ دکھایا تھا جس کے مطابق وہ امریکی ریاست ہوائی میں پیدا ہوئے تھے۔
اتوار کو این بی سی پر انٹرویو کے دوران بین کارسن سے بھی پوچھا گیا کہ آیا وہ یقین کرتے ہیں کہ صدر اوباما واقعی امریکہ میں پیدا ہوئے تھے اور وہ مذہب کے لحاظ سے مسیحی ہیں۔
اس پر بین کارسن نے کہا کہ ’ مجھے یقین ہے کہ یہ بات درست ہے۔ میرے پاس کوئی وجہ موجود نہیں کہ میں اوباما کی بات پر شک کروں۔‘
ایک تازہ ترین جائزے کے مطابق ریپبلکن پارٹی میں صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں اب بین کارسن تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں جبکہ مشہور کمپیوٹر کپمنی ایچ پی کی سابق سربراہ کارلی فیورینا دوسرے نمبر پر ہیں اور ڈونلڈ ڈرمپ بدستور پہلے نمبر پر ہیں۔
Thursday, September 17, 2015
بھارتی شہری نے بیوی کی یاد میں ایک اور ’’تاج محل‘‘ تعمیر کردیا
لکھنئو: بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک شخص نے مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی طرح اپنی مرحومہ بیوی کی یاد میں ایک تاج محل تعمیر کیا ہے تاکہ اس کی محبت کے جذبے کو بھی دنیا بھر میں یاد رکھا جائے۔
تاج محل کو دنیا بھر میں محبت کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے جسے مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ کی موت کے بعد اس کی یاد میں 1631ء سے 1648 ء کے درمیان بنوایا تھا اسی طرح یوپی کے ایک 80 سالہ شخص فیض الحسن قادری نے اپنی اہلیہ کی یاد میں ایک تاج محل بنوایا ہے یہ تاج محل اصل سے ذرا چھوٹا ہے اورکسی خوبصورت دریا کے کنارے بھی نہیں اور نہ اس میں کندہ کاری کا کام ہے اور نہ یہ قیمتی پتھروں سے مزین ہے البتہ جذبہ وہی ہے جو شاہ جہاں کا تھا یعنی اپنی اہلیہ سے بے پناہ محبت کا۔
آگرہ سے تقریباً 100 میل دور بلند شہر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع اس تاج محل کی تعمیر میں 3 سال کا عرصہ لگا جس میں ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر فیض الحسن کی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ ہوچکی ہے اور یہ رقم ایک کروڑ 10 لاکھ بھارتی روپے سے زائد ہے۔ فیض الحسن کی اہلیہ 2011 میں انتقال کر گئی تھیں اور یہ تاج محل ان کی تدفین کی جگہ بنایا گیا ہے جہاں فیض الحسن نے اپنی محبوب اہلیہ کی قبر کے ساتھ اپنی قبر کے لیے بھی جگہ مختص کررکھی ہے۔
فیض الحسن نے اس تاج محل کی تعمیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی مرحومہ اہلیہ کی یادمیں بنایا ہے جس کے ساتھ انہوں نے زندگی کے 53 سال گزارے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی جس کی وجہ سے ان اہلیہ کو یہ فکر رہتی تھی کہ مرنے کے بعد ہمارا کوئی ذکر بھی نہیں کرے گا، کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا۔ اس لیے انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کا انتقال مجھ سے پہلے ہوگیا تو وہ ان کے لیے ایسا مقبرہ بنوائیں گے کہ لوگ برسوں یاد رکھیں۔
عمارت پر آنے والی لاگت کی وجہ سے فیض الحسن کو اب مالی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کا تمام سرمایہ اور جمع پونجی اس کی تعمیر میں خرچ ہوچکی ہے۔ ریاستی حکومت اور بعض افراد کی جانب سے انہیں اس تاج محل کی تعمیر کے لیے امداد کی بھی پیشکش کی گئی تھی تاہم فیض الحسن نے کسی سے بھی امداد لینے سے انکار کردیا اوران کا کہنا ہے کہ یہ کسی کا مزار یا کوئی خانقاہ یا عبادت گاہ نہیں یہ ان کی اہلیہ کا مزار ہے اور اگر وہ کسی سے کوئی پیسہ لے کر اس میں لگاؤں توکہا جائے گا کہ یہ قبر چندے کی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو البتہ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ گاؤں میں موجود اسکول کو تعیلمی بورڈ سے منظور کروائے تاکہ یہاں کہ طالب علموں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکے۔
جس طرح آگرہ کے قلعے میں قید شاہ جہاں کو تاج محل صاف نظر آتا تھا اسی طرح اپنے کمرے کی کھڑکی سے فیص الحسن بھی اپنا تاج محل دیکھ سکتے ہیں۔ جیسے جیسے اس نئے تاج محل کی خبر پھیل رہی ہے ویسے ویسے آس پاس کے دیہات سے لوگ اسے دیکھنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور اترپردیش کے اس دوردراز گاؤں میں شاہ جہاں اور ممتاز محل کی محبت کی طرح ایک اور داستان جنم لے رہی ہے۔
مویشی منڈی ؛ جانوروں کو مصنوعی دانت لگا کر فروخت کرنیوالا گروہ گرفتار
کراچی: سپرہائی وے پر قائم ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی کی انتظامیہ نے قربانی کے جانوروں کو مصنوعی دانت لگاکر فروخت کرنے والے 10 رکنی گروہ کو پکڑلیا،
مویشی منڈی کی انتظامیہ نے سختی سے بیوپاریوں کو تاکید کی ہے کہ ایسا کوئی بھی جانور منڈی میں فروخت نہ کیا جائے جس کی قربانی جائز نہ ہو، ملزمان کے قبضے سے35 مویشی بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں مویشی منڈی کی انتظامیہ نے ملزمان کو پولیس کے حوالے کردیا، ملزمان کے پاس سے ایک ہزار روپے والے جعلی کرنسی نوٹ بھی موجود تھے جعلساز بیوپاریوں کو دھوکا دے کر جعلی نوٹوں کے ذریعے مویشی خریدرہے تھے، مویشی منڈی کے ایڈمنسٹریٹر رانا عمران نے کہا ہے کہ وہ ہر ممکن کوششیں کررہے ہیں کہ مویشی منڈی میں ایسے عناصر پر نظر رکھی جائے اور جعلسازی کی نگرانی کے لیے ہر بلاک میں چیکنگ کی جارہی ہے.
انھوں نے منڈی میں آنے والے شہریوں سے بھی درخواست کی کہ وہ خریداری سے قبل قربانی کے جانور کا مکمل جائزہ لیں اور اس بات کا اطمینان کرلیں کہ جانور میں مصنوعی سینگ، دانت یا کوئی اور نقص موجود نہ ہو، مصنوعی دانتوں اور سینگوں کو گلو یا چپکنے والی اشیا سے جوڑا جاتا ہے تاہم غور سے دیکھنے پر نقص واضح ہوجاتا ہے کیونکہ جانور کا مسوڑھا نیلا پڑجاتا ہے اور اندازہ ہوجاتا ہے کہ مصنوعی دانت جبڑے سے جوڑے گئے ہیں ۔
اسی طرح انھوں نے بیوپاریوں اور خریداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ لین دین کرتے ہوئے خیال رکھیں کوئی بھی شخص جعلی نوٹ سے ادائیگی نہ کررہا ہو انھوں نے عوام اور بیوپاریوں سے اپیل کی کہ وہ منڈی میں ایسی صورتحال پر منڈی انتظامیہ کو فوری آگاہ کریں تاکہ جعلسازی کرنے والے افراد کو پکڑ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جاسکے۔
Sunday, February 15, 2015
No PR40/2015-ISPR Dated: February 14, 2015
No PR40/2015-ISPR Dated: February 14, 2015
Rawalpindi - February 14, 2015: Mother of Maj Shabir Sharif,Nishane Haider,Sitarae Jurrat and General Raheel Sharif, COAS and Capt Mumtaz Sharif, Sitarae Basalat (retd) who passed away at AFIC early morning Saturday was buried at cavalry ground graveyard Lahore later in the afternoon.












